بنگلورو،3؍ستمبر(ایس او نیوز) اپوزیشن لیڈروسابق وزیراعلیٰ سدارامیانے آج خوفنا ک تشددکی لپیٹ میں آئے کاڈگنڈنہلی،دیورجیون ہلی اورمقامی رکن اسمبلی اکھنڈسرینواس مورتی کے گھرکادورہ کیا۔ کوروناوائرس سے متاثرہوکر علاج معالجہ اورہوم آئسولیشن کی مدت ختم کرنے کے بعد سدارامیانے کل کے پی سی سی میں منعقدہ سابق صدرہندآنجہانی پرنب مکھرجی کے تعزیتی پروگرام میں شرکت کی بعدازاں آج کے جی ہلی اورڈی جے ہلی کے تشددزدہ علاقوں کا دورہ کیا۔
دورہ کے دوران اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سدارامیانے کہا کہ نوین نامی کسی نے حضورؐ کی شان میں گستاخی کا فیس بک پوسٹ کیا،یہ پوسٹ شام 6بجے کیاگیا، 11اگست شام 7.45 بجے لوگ شکایت درج کرنے کے لیے پولیس تھانہ آئے تھے۔اسی وقت لوگ اکھنڈسرینواس مورتی اورنوین کے گھرکے پاس جمع ہوئے اورنعرہ بازی کرنے لگے۔پولیس کوفوری طورپر حرکت میں آتے ہوئے ایف آئی آردرج کرلیناچاہئے تھا۔لیکن ایف آئی آردرج نہیں کی گئی۔پولیس کی جانب سے فوری ایف آئی آردرج کرکے نوین کے خلاف کارروائی نہ کئے جانے کی وجہ سے ان علاقوں میں تشددبرپاہوا۔
انہوں نے مزیدکہاکہ 11اگست کوکے جی ہلی اورڈی جے ہلی میں تشددہوا،اس وقت میں کووڈ۔19کی زدمیں آکر اسپتال میں زیرعلاج تھا۔ان علاقوں میں کیاکچھ ہوااس کی صحیح جانکاری میرے پاس نہیں تھی۔ اس تشددمیں چارافرادجانیں تلف ہوئی ہیں۔اس وجہ سے آج میں یہاں خوددورہ کے لیے آیا تاکہ حقیقی حال سے واقف ہوسکوں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیق مجسٹریٹ کے ذریعہ کی جارہی ہے۔ لیکن ہماری رائے میں اس تشددکی تحقیق ہائی کورٹ کے جج کی زیرقیادت کی جانی چاہئے۔ہماری پارٹی کا بھی یہی اصرارہے۔اس اصرارسے ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔اس بارے میں ہم ایوا ن میں آوازاٹھائیں گے۔اس تشددمیں کوئی بھی ملوث کیوں نہ اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے اس معاملہ میں اب تک 324افراد کو گرفتارکیاہے لوگ کہہ رہے ہیں کہ گرفتارافراد میں چندافرادبے قصورہیں۔اگررضوان کی بات صحیح ہے توگرفتاربے قصورافرادکوفوری رہا کرناچاہئے۔غلطی کرنے والے کوئی بھی کیوں نہ ہوان کوسزاملنی چایئے۔سدارامیا نے تشدد میں کانگریس کارپوریٹرس کے ملوث ہونے کے سلسلہ میں پوچھے گئے ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ کیاکسی تحقیق میں کانگریس کارپوریٹرس کے اس تشددمیں ملوث ہونے کا انکشاف ہواہے؟ اگرکسی تحقیق میں قصوروار پائے گئے ان کے خلاف کارروائی کئے جانے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ہاں یادرکھو کسی بھی تحقیق وتفتیش پہلے قصوروارقراردینے کے لئے میں بی جے پی کا ورکرنہیں ہوں۔بی جے پی مانندمیں کسی پربھی خواہ مخواہ الزام تراشی نہیں کروں گا،ایڈی یورپا کی زیر قیادت ریاستی حکومت نے بی جے پی والوں پردرج کئی کریمنل کیسوں کوختم کردیاہے۔ تشددمیں کس کاہاتھ ہے،کونسی پارٹی ملوث ہے تحقیق کے بعدسب کچھ معلوم ہوجائے گا۔تشددمیں جو سواریاں جل گئی ہیں،ان سواریوں کا معاوضہ حکومت کی جانب سے اداکیا جانا چاہئے۔ حکومت کوچاہئے کہ جلدازجلداس کی تحقیق کرے۔سواریوں اورمکانات کو جلانے والے گانجہ پئے ہوئے تھے اس پرجواب دیتے ہوئے سدارامیانے کہا کہ تحقیق جاری ہے، تحقیق کے بعدسب کچھ پتہ چل جائے گا۔اس موقع پران کے ساتھ شیواجی نگرکے رکن اسمبلی رضوان ارشدودیگرلیڈررہے۔